اسلام آباد کے نئے بلدیاتی نظام کی وفاقی کابینہ سے منظوری، تین میئرز کا نیا فریم ورک اور نصف صدی کی کہانی

وفاقی کابینہ نے دارالحکومت اسلام آباد کے لیے لوکل گورنمنٹ سسٹم (بلدیاتی نظام) کے ایک بالکل نئے ڈھانچے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت شہر کو تین مختلف کونسلز میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر کونسل کی قیادت اس کا اپنا میئر کرے گا۔

اس نئی مجوزہ ترتیب کے تحت ہر کونسل اکیس ارکان پر مشتمل ہوگی، جبکہ بلدیاتی امور میں تمام سماجی طبقات کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے خواتین اور اقلیتوں کو بھی عمومی کونسلز میں مناسب نمائندگی دی جائے گی۔

اسلام آباد لوکل گورنمنٹ بل کو حتمی جائزے کے لیے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، جس کے بعد اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے باقاعدہ منظور کرایا جائے گا۔

اس نئے فریم ورک کا بنیادی مقصد دارالحکومت کے بلدیاتی نظام کو ازسرِ نو منظم کرنا ہے تاکہ منتخب نمائندے مقامی سطح پر شہریوں کو خدمات کی فراہم اور دیگر امور کی دیکھ بھال کر سکیں۔

پاکستان کے دارالحکومت میں منتخب مقامی حکومت کے قیام کا سفر طویل اور مشکلات سے بھرا رہا ہے۔

سنہ 1960 میں کراچی سے اسلام آباد دارالحکومت منتقل کیے جانے کے بعد سے بلدیاتی خدمات کی زیادہ تر ذمہ داری کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے پاس رہی ہے، جس کی تمام تر انتظامی باگ ڈور وزارتِ داخلہ اور غیر منتخب بیوروکریسی کے ہاتھوں میں تھی۔

سنہ 1979 میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی آرڈیننس نافذ کیا گیا لیکن اس کے تحت کبھی انتخابات نہ ہو سکے۔

بعد ازاں سنہ 2002 میں صدر پرویز مشرف کے دور میں ایک نیا آرڈیننس لایا گیا جس میں ناظم کا عہدہ رکھا گیا اور سی ڈی اے چیئرمین کو ناظم کے تحت کام کرنے کی ہدایت دی گئی، لیکن یہ نظام بھی صرف دستاویزات تک محدود رہا اور عمل درآمد کی نوبت نہ آسکی۔

اسلام آباد کی تاریخ میں پہلے باقاعدہ بلدیاتی انتخابات اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد اگست 2015 میں پاس ہونے والے قانون کے تحت ممکن ہو سکے۔

اس قانون کے نتیجے میں میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد یعنی ایم سی آئی کا قیام عمل میں آیا اور شیخ انصر عزیز شہر کے پہلے منتخب میئر بنے۔

سنہ 2015 کے اس بلدیاتی نظام میں 50 یونین کونسلز شامل تھیں جن کی تعداد بعد میں بڑھا کر 125 تک کردی گئی۔ تاہم، اس نظام میں بھی قانون سازی کی کمی کے باعث میئر کے اختیارات اور سی ڈی اے کے دائرہ کار کے درمیان تنازعات قائم رہے، کیونکہ آئینی طور پر سی ڈی اے کو میئر کے مکمل ماتحت نہیں کیا گیا تھا۔

سنہ 2015 کے بعد سے اب تک اسلام آباد کے بلدیاتی ڈھانچے میں متعدد بار ترمیم کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔

سنہ 2021 میں اس وقت کی وفاقی حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے میئر کے براہِ راست انتخاب کی تجاویز دیں لیکن پارلیمنٹ کی منظوری نہ ملنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسے کالعدم قرار دے کر 2015 کے قانون کو بحال کر دیا۔

اس کے بعد سنہ 2023 اور 2024 میں بھی یونین کونسلوں کی تعداد، جنرل نشستوں میں اضافے اور خواتین کی مخصوص نشستوں میں تبدیلی کے لیے ترمیمی بل منظور کیے گئے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2024 کی بعض قانونی ترمیمات پر وضاحتیں طلب کر رکھی ہیں تاکہ نئے بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا تعین کیا جا سکے۔

تقریباً پانچ دہائیوں کی اس قانونی اور انتظامی کشمکش کے نتیجے میں اسلام آباد میں اب تک صرف ایک بار بلدیاتی انتخابات مکمل ہو سکے ہیں اور صرف ایک میئر ہی اپنی مدت پوری کر سکا ہے۔

سنہ 2021 سے بلدیاتی انتخابات التوا کا شکار ہیں جبکہ سی ڈی اے، ایم سی آئی اور اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ کے درمیان اختیارات کا ابہام تاحال برقرار ہے۔

اب وفاقی کابینہ کی جانب سے تین میئرز پر مشتمل اس نئے بلدیاتی بل کے لائے جانے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کو مقامی سطح پر پائیدار، مستحکم اور بااختیار جمہوریت میسر آ سکے گی۔

Related posts